شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن نے داعیٔ اَجل کو لبیّک کہا۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنoآپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کا مزار پُرانوارمدینۃ المرشد بریلی شریف میں آج بھی زیارت گاہِ خاص وعام ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
تُم کیا گئے کہ رونقِ محفِل چلی گئی
شِعر و ادب کی زُلف پریشاں ہے آج بھی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دربارِ رسالت میں انتِظار
25صفر المظفَّر1340ھ کو بیتُ المقدَّس میں ایک شامی بُزُرگ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے خواب میں اپنے آپ کو دربارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں پایا۔ صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان دربار میں حاضِر تھے، لیکن مجلس میں سُکوت طاری تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی آنے والے کا اِنتِظار ہے، شامی بُزُرگ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں عَرض کی: حضُور! (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کس کا اِنتِظار ہے؟ سیِّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ہمیں احمد رضا کا اِنتظار ہے۔ شامی بُزُرگ نے عَرض کی: حضُور ! احمد رضا کون ہیں؟ ارشاد ہوا: ہندوستان میں بریلی کے باشِندے ہیں۔ بیداری کے بعد وہ شامی بُزُرگ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ مولانا اَحمد