اکثر بچے تو اس وقت روتے ہيں جب انہيں کوئی تکليف ہوتی ہے مثلا بخار ہو،نزلہ ہو ،کان ميں درد ہو، آخری صورت ميں بچہ بار بار اپنے متاثرہ کان کو ہاتھ لگاتا ہے ۔ایسی صورت میں بھی اپنے معالج سے رجوع کریں ۔
اگر بچہ کسی صورت سے چپ نہ ہو نہ دودھ پلانے پر ،نہ ڈکاردلانے پر،نہ تھپکنے پر،نہ گود ميں لينے پر تو يہ اس بات کی علامت ہے کہ بچے کو کہيں نہ کہيں کوئی تکليف ضرور ہے جس کی وجہ سے بچہ بے چين ہے۔ايسی صورت ميں گھٹی پلانے ،گرائپ واٹر پلانے،پيٹ پر ہينگ ملنے ،سينے پر بام ملنے ،يا جھنجھلاکر بچے کو تھپڑ مارنے اور بعد ميں خود رونے بيٹھ جانے سے بہتر ہے کہ بچے کو فورًا معالج کو دکھائيں ۔اگر بچہ دودھ پينا چھوڑ دے ،چہرے سے بيمار لگ رہا ہو ،بخار ہو،دست آ رہے ہوں ،بچہ بے کل ہو ، بے قرار ہو،مسلسل رو رہا ہو تو ذرا بھی دير نہ کريں ،جلد از جلد اپنے معالج کو دکھائيں يا پھر کسی ماہر اطفال سے رجوع کريں۔