| تربیت اولاد |
سے واپس ہوئے )اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے گھر کے صحن ميں بيٹھ گئے اور حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو ابھی چھوٹے تھے اُن)کے بارے میں دریافت فرمايا۔سيدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے انہيں تھوڑی دير روکے رکھا ،ميں نے سمجھا شايد انہيں ہار پہنا رہی ہيں يا نہلا رہی ہيں اتنے میں وہ (یعنی حضرت حسن رضی اللہ عنہ)دوڑتے ہوئے آئے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے انہيں گلے لگا ليا چوما اور کہا''اے اللہ عزوجل!اس سے محبت کر اور اُس سے محبت کر جو اس سے محبت کرے''
(صحیح البخاری،کتاب البیوع،باب ماذکر فی الاسواق، الحدیث۲۱۲۲،ج۲،ص۲۵)
حضرت سيدنا ابو بريدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ايک بار خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اتنے ميں حضرت حسن اور حضرت حسين رضی اللہ تعالیٰ عنہمادونوں سرخ رنگ کی (دھاریوں والی)قمیص پہنے ہوئے چلتے ہوئے آئے (چونکہ بچے تھے صحيح طريقے سے چل نہيں سکتے تھے اس ليے کبھی گرتے تھے )۔رسو ل اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے جب انہيں ديکھاتو منبر اقدس سے اترے اور ان دونوں کو اٹھا کر اپنے سامنے بٹھا ليا ۔''
(جامع الترمذی ،کتاب المناقب الی محمد بن علی بن ابی طالب ،الحدیث ۳۷۹۹،ج ۵ ص ۴۲۹)
حضرت سیدنا ابوعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اپنی ایک ران پر مجھے اور ایک ران پر امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بٹھاتے اور دونوں کو اپنے ساتھ چمٹا لیتے اور دعاکرتے :''اے اللہ عزوجل ! ان دونوں پر رحم فرما کیونکہ میں بھی ان پر رحم کرتا ہوں۔''
(صحیح البخاری،کتاب الادب ،باب وضع الصبی علی الفخذ ،الحدیث۶۰۰۳،ج۴،ص۱۰۱)