بچوں کی دیر پا تعلیم وتربیت کے لئے ان سے ابتداء ہی سے شفقت ومحبت کے ساتھ پیش آنا چاہيے ۔ یوں جب ماں کی مامتا اور شفقتِ پدری کی شیرینی گھول کر تعلیماتِ اسلام کا مشروب ان کے حلق میں انڈیلا جائے گا تو وہ فوراً اسے ہضم کر لیں گے ۔
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:''بے شک جنت میں ایک گھر ہے جسے ''الفرح'' کہا جاتا ہے ۔ اس میں وہی لوگ داخل ہوں گے جو بچوں کو خوش کرتے ہیں ۔''
(جامع صغیر ،الحدیث۲۳۲۱،ص۱۴۰)
حضرت سيدنا ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہروايت کرتے ہيں کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّمدن کے کسی پہر نکلے نہ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے کچھ فرمایا اور نہ میں نے کچھ عرض کی حتیٰ کہ بنی قینقاع کے بازار ميں پہنچے (وہاں