Brailvi Books

تربیت اولاد
78 - 185
مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالی علیہ والہٖ وسلم نے ان کے گھر ایک بچی کو دیکھا جس کا چہرہ زرد تھا توارشاد فرمايا:''اسے دعا وتعویذ کراؤ ،اسے نظرِ بد لگی ہے۔''
 (صحیح مسلم،کتاب السلام ،باب استحباب الرقیۃ من العین ...الخ، الحدیث ۲۱۹۷،ص۱۲۰۶)
مسئلہ :
     بچوں یا بڑوں کو تعویذ پہننا بالکل جائز ہے جبکہ وہ تعویذ آیاتِ قرآنیہ یا اسمائے الٰہیہ یا دعاؤں پر مشتمل ہو ۔ بعض احادیث میں تعویذ کی جو ممانعت آئی ہے اس سے مراد وہ تعویذات ہیں جو ناجائز الفاظ پر مشتمل ہوں جیسا کہ زمانہ جاہلیت کے تعویذات ہوتے تھے ۔
 (بہارِ شریعت ، حصہ ۱۶،ص۲۵۲:رد المحتار ،کتاب الحظر والاباحۃ ،فصل فی اللبس ،ج۹ ،ص۶۰۰ )
    تعویذات اسمائے الٰہی وکلامِ الٰہی وذکر الٰہی سے ہوتے ہیں،ان میں اثر نہ ماننے کا جواب وہی بہتر ہے جو حضرت شیخ ابوسعید ابوالخیر قدس سرہ العزیز نے ایک ملحد(یعنی بے دین) کو دیا ،جس نے تعویذات کے اثر میں کلام کیا ۔ حضرت قدس سرہ نے فرمایا، ''تو عجب گدھا ہے ۔''وہ دنیوی طور پربڑا معززبنتا تھا یہ لفظ سنتے ہی اس کا چہرہ سرخ ہو گیا اورگردن کی رگیں پھول گئیں اور بدن غیظ سے کانپنے لگا اور حضرت سے اس فرمانے کا شاکی ہوا ، فرمایا میں نے تو تمہارے سوال کا جواب دیا ہے ،گدھے کے نام کا اثر تم نے مشاہدہ کر لیا کہ تمہارے اتنے بڑے جسم کی کیا حالت کر دی لیکن مولیٰ عزوجل کے نام پاک سے منکر ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم

    الحمدللہ عزوجل تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی مجلسِ مکتوبات و تعویذات عطاریہ کے تحت دکھیارے مسلمانوں کا امیرِ اہلِ سنّت
Flag Counter