| تربیت اولاد |
البدل نہیں ہوسکتا ۔ اس لئے بچے کو ماں کا دودُھ پلانا چاہيے شدید مجبوری کی صورت میں اسے کسی نیک عورت کا دودھ پلایا جائے ۔حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ،نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا :''دودھ طبیعت کو بدل دیتا ہے۔
''(الجامع الصغیر ،الحدیث ۴۵۲۵،ص۲۷۷)
دودھ پلانے کی فضیلت:
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:''جب کوئی عورت اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے تو ہر گھونٹ پلانے پر ایسا اجر ملتا ہے کہ جیسے کسی جاندار کو زندہ کردیا ہو ۔ پھر جب وہ اسکو دودھ چھڑاتی ہے تو ایک فرشتہ اسکے کاندھے پر تھپکی دیتا اور کہتا ہے اپنا عمل دوبارہ شروع کر۔(یعنی اس کے گناہ بخش دیئے گئے اب دوبارہ اپنے اعمال کا آغاز کرے)
(کنزا لعمال ،کتاب النکاح ،الفصل الثانی فی ترغیبات تختص با النساء ،الحدیث ۴۵۱۵۲،ج۱۶،ص۱۷۱)
مسئلہ :
زیادہ سے زیادہ دوسال کی مدت تک ماں یا کسی عورت کا دودھ پلایا جاسکتا ہے۔ جب بچہ دوسال کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے کسی بھی عورت کا دودھ پلانا ناجائز ہے ۔
(ماخوذ از بہارِ شریعت ،حصہ ۷،ص۲۹)
مسئلہ :
بچوں کو نظر لگنا ثابت ہے جیسا کہ حضرت سيدتنا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روايت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے