Brailvi Books

تربیت اولاد
76 - 185
علیہ والہٖ وسلم نے ارشاد فرمايا:''فطرت پانچ چیزيں ہيں ،ختنہ کرنا،موئے زير ناف صاف کرنا،بغل کے بال نوچنا،مونچھيں کترنا،ناخن کاٹنا۔''
 (صحیح مسلم،باب خصال الفطرۃ ،الحدیث۲۵۷،ص۱۵۳)
    ختنہ کرنا سنت ہے اوریہ شعائرِ اسلام میں سے ہے کہ اس سے مسلمان اور غیر مسلم میں امتیاز ہوتا ہے اسی لئے اسے مسلمانی بھی کہا جاتا ہے ۔ ولادت کے سات دن کے بعدختنہ کرنا جائز ہے ، ختنہ کی مدت سات سال سے بارہ سال تک ہے ۔
 (الفتاویٰ الہندیہ ،کتاب الکراہیۃ ،باب التاسع عشر فی الختان ...الخ ،ج۵،ص۳۵۷،و بہارِ شریعت ،حصہ ۱۶،ص۲۰۰)
    حضرت سیدنا مولیٰ علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ اپنے بچے کا ساتویں دن ختنہ کرو کہ یہ گوشت اگنے کے لئے جلدی اور ستھرا ہے اور دل کے لئے راحت ہے ۔
 (کنزالعمال،کتاب النکاح ،الفصل الثالث فی الختان ،الاکمال،الحدیث۴۵۳۰۴،ج۸،ص۱۸۱)
مسئلہ :
    بچے کا ختنہ باپ خود بھی کر سکتا ہے۔ (اگر حجام یا ڈاکٹر وغیرہ ختنہ کریں تو عورت ان کے سامنے نہ آئے بلکہ بچے کو کوئی مرد پکڑے۔) ( فتاویٰ رضویہ،ج۲۲،ص۲۰۴)
بچے کو اس کی ماں دودھ پلائے
    اللہ عزوجل فرماتا ہے :
وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَہُنَّ حَوْلَیۡنِ کَامِلَیۡنِ
ترجمہ کنزالایمان:اورمائيں دودھ پلائيں اپنے بچوں کو پورے دوبرس ۔   ( پ۲،البقرہ:۲۳۳)

    بچے کے لئے ماں کا دودھ بہترین تحفہ ہے ،بوتل کا دودھ کبھی بھی اس کا نعم
Flag Counter