| تربیت اولاد |
حضرت سيدنا عمروبن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روايت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرماياکہ:''جس کے ہاں بچہ پيدا ہو اور وہ اس کی طرف سے عقيقے کی قربانی کرنا چاہے تو لڑ کے کی طرف سے ایک جیسی دو بکرياں اور لڑکی کی طرف سے ايک بکری قربان کی جائے۔''
(سنن ابی داؤد،کتاب الضحایا، باب العقیقہ،الحدیث ۲۸۴۱،ج۳،ص۱۴۳)
حضرت سيدتنا عائشہ صديقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روايت ہے فرماتی ہيں نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمايا کہ:''لڑکے کی طرف سے دو بکرے اور لڑکی کی طرف سے ايک بکرا ذبح کيا جائے۔''
(المسندللامام احمدبن حنبل ،مسند السیدہ عائشہ ،الحدیث ۲۶۱۹۴،ج۱۰،ص۱۰۱)
عقیقے کے چند مسائل:
(۱) عقیقہ کے جانور کے لئے بھی وہی شرائط ہیں جو قربانی کے جانور کی ہیں۔ اس کا گوشت فقراء اور رشتہ داروں میں کچا تقسیم کردیا جائے یا پکا کر دیا جائے یا ان کو بطورضیافت کھلایا جائے ،ہر طرح سے جائز ہے ۔
(۲) لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے اور لڑکی کے عقیقہ میں ايک بکری ذبح کی جائے اگر لڑکے کے عقیقہ میں بکریاں اور لڑکی کی طرف سے بکرا کیا گیا جب بھی حرج نہیں ۔
(۳)گائے ذبح کرنے کی صورت میں لڑکے کے لئے دو حصے اور لڑکی کے لئے ایک حصہ کافی ہے ۔