عقیقہ کے لئے ساتواں دن بہتر ہے جیسا کہ حضرت سيدناامام حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سيدناسمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روايت کی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالی علیہ والہٖ وسلم نے فرمايا:''لڑکا اپنے عقيقے کے بدلے رہن رکھا ہوا ہے ساتويں روز اس کی طرف سے جانور ذبح کيا جائے ،نام رکھا جائے ،اور اس کا سر مونڈا جائے۔''
(جامع الترمذی،کتاب الاضاحی ،باب العقیقہ بشاۃ ،الحدیث۱۵۲۷، ج۳ ،ص۱۷۷)
اگر ساتویں دن نہ کرسکیں تو جب چاہیں کرسکتے ہیں لیکن سات دن کا لحاظ رکھنا بہتر ہے ۔اسے یاد رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس دن بچہ پیدا ہوا ،اس سے پہلے والا دن جب بھی آئے گا ساتواں ہوگا ۔ مثلاً ہفتے کو بچہ پیدا ہوا تو جمعۃ المبارک ساتواں دن کہلائے گا ۔علی ھذاالقیاس
(ماخوذ از بہارِ شریعت ،حصہ ۱۵، ص۱۵۴)