Brailvi Books

تربیت اولاد
73 - 185
انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے سنا:''بچے کے ساتھ عقيقہ ہے،لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤاور اس سے اذيت کو ہٹاؤ۔''
 (صحیح البخاری،کتاب العقيقہ،باب اماطۃ الاذی عن الصبی فی العقيقۃ،الحديث ۱۵۱۸،ج۳،ص۵۴۸)
اعلیٰ حضرت،امامِ اہلِسنّت مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :

    ''جو بچہ قبل بلوغ مرگیا اور اس کا عقیقہ کردیا تھا یا عقیقہ کی استطاعت نہ تھی یا ساتویں دن سے پہلے مرگیا ان سب صورتوں میں وہ ماں باپ کی شفاعت کریگا جبکہ یہ دنیا سے با ایمان گئے ہوں۔''
(فتاویٰ رضویہ ،ج۲۰،ص۵۹۶)
عقیقہ کب کریں؟
    عقیقہ کے لئے ساتواں دن بہتر ہے جیسا کہ حضرت سيدناامام حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سيدناسمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روايت کی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالی علیہ والہٖ وسلم نے فرمايا:''لڑکا اپنے عقيقے کے بدلے رہن رکھا ہوا ہے ساتويں روز اس کی طرف سے جانور ذبح کيا جائے ،نام رکھا جائے ،اور اس کا سر مونڈا جائے۔''
 (جامع الترمذی،کتاب الاضاحی ،باب العقیقہ بشاۃ ،الحدیث۱۵۲۷، ج۳ ،ص۱۷۷)
    اگر ساتویں دن نہ کرسکیں تو جب چاہیں کرسکتے ہیں لیکن سات دن کا لحاظ رکھنا بہتر ہے ۔اسے یاد رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس دن بچہ پیدا ہوا ،اس سے پہلے والا دن جب بھی آئے گا ساتواں ہوگا ۔ مثلاً ہفتے کو بچہ پیدا ہوا تو جمعۃ المبارک ساتواں دن کہلائے گا ۔علی ھذاالقیاس
     (ماخوذ از بہارِ شریعت ،حصہ ۱۵، ص۱۵۴)
Flag Counter