| تربیت اولاد |
ملتے تھے۔ليکن جب ہم اسلام لائے تو اب ہمارے ہاں جب بچہ پيد ا ہو تا ہے ہم اس کی طرف سے بکری ذبح کرتے، اس بچہ کا سر منڈاتے اور اس کے سر پر زعفران ملتے ہيں۔''
(المستدرک للحاکم،کتاب الذبائح،باب عن الغلام شاتان وعن الجاريۃشاۃ،الحدیث ۷۶۶۸،ج۵،ص۳۳۸)
ام المؤمنين حضرت سيدتنا عائشہ صديقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روايت ہے کہ زمانہ جاہليت ميں لوگوں کا دستور يہ تھا کہ جب وہ بچے کا عقيقہ کرتے تو روئی کے ايک پھائے ميں عقيقے کے جانور کا خون بھر ليتے ۔پھر جب بچے کا سر منڈا ديتے تو وہ خون بھرا پھايا اس کے سر پر رکھ ديتے اور اس کے سر کو عقيقے کے خون سے رنگ ديتے ۔يہ ايک جاہلانہ رسم تھی ۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمايا ''بچے کے سر پر خون نہيں بلکہ اس کی جگہ خلوق(ايک مرکب خوشبو کا نام ہے جو زعفران وغيرہ سے تيا ر کی جاتی ہے)لگا يا کرو''
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،کتاب الاطعمۃ ،باب العقیقۃ،الحدیث۵۲۸۴،ج۷،ص۳۵۵)
عقیقہ
بچے کی پیدائش اس کے والدین اورخاندان بھرکے لئے مسرت وشادمانی کا پیغام لاتی ہے ۔بارگاہِ الٰہی عزوجل میں اس نعمت کے شکر کااسلامی طریقہ یہ ہے کہ بطورِ شکرانہ جانور ذبح کیا جائے۔ اسی کو عقیقہ کہتے ہیں اور یہ مستحب ہے ۔
(ماخوذ از بہارِ شریعت ،حصہ ۱۵، ص۱۵۳)
ہمارے مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے خود اس کی ترغیب ارشاد فرمائی ہے ۔چنانچہ حضرت سيدنا سلمان بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بيان کرتے ہيں کہ ميں نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ