امير المؤمنين حضرت سيدناعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روايت ہے ،کہتے ہيں کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالی علیہ والہٖ وسلم نے ارشاد فرمايا''جب کوئی قوم کسی مشورہ کے لئے جمع ہو اور ان ميں کوئی شخص''محمد''نام کا ہواور وہ اسے مشورہ ميں شريک نہ کريں تو ان کے لئے مشاورت ميں برکت نہ ہو گی۔ ''
(الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی:ج۱،ص۲۷۵)
صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں :''محمد بہت پیارا نام ہے ،اس نام کی بڑی تعریف حدیثوں میں آئی ہے ۔اگر تصغیر کا اندیشہ نہ ہو تو یہ نام رکھا جائے اور ایک صورت یہ ہے کہ عقیقہ کا نام یہ ہو اور پکارنے کے لئے کوئی دوسرا نام تجویز کر لیا جائے ، اس صورت میں نام کی بھی برکت ہو گی اور تصغیر سے بھی بچ جائیں گے ۔
(بہارِ شریعت ، حصہ۱۵ ،ص۱۵۴)
جب شیخ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ سے کسی کا نام رکھنے کی درخواست کی جاتی