(صحیح مسلم ، کتاب الادب ،باب استحباب تغییر الاسم القبیح ، الحدیث۲۱۳۲،ص۱۱۷۸)
صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں : ''عبداللہ وعبدالرحمن بہت اچھے نام ہیں( مگر اس زمانہ میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بجائے عبدالرحمن اس شخص کو بہت سے لوگ رحمن کہتے ہیں اورغیرِ خدا کو رحمن کہنا حرام ہے ،اسی طرح عبدالخالق کو خالق اور عبدالمعبود کو معبود کہتے ہیں ) اس قسم کے ناموں میں ایسی ناجائز ترمیم ہرگز نہ کی جائے ۔ اسی طرح بہت کثرت سے ناموں میں تصغیر کا رواج ہے یعنی نام کو اس طرح بگاڑتے ہیں جس سے حقارت نکلتی ہے ،ایسے ناموں میں تصغیر ہرگز نہ کی جائے اور جہاں یہ گمان ہو کہ ناموں میں تصغیر کی جائے گی یہ نام نہ رکھے جائیں ، دوسرے نام رکھے جائیں ۔
(بہارِ شریعت ، حصہ ۱۶،ص۲۱۱،ماخوذًا)
رحمتِ عالم ، شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:'' جس نے میرے نام سے برکت کی امید کرتے ہوئے میرے نام پر نام رکھا،قیامت تک صبح