| تربیت اولاد |
مسئلہ :
عبدالمصطفیٰ ،عبدالنبی اور عبدالرسول نام رکھنا بالکل جائز ہے کہ اس سے شرف ِ نسبت مقصود ہے ۔ عبد کے دو معانی ہیں ،بندہ اور غلام ، اس لئے یہ نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔غلام محمد ، غلام صدیق ، غلام فاروق ، غلام علی ، غلام حسین وغیرہ نام رکھنا جن میں غلام کی نسبت انبیاء وصالحین کی طرف کی گئی ہو ،بالکل جائز ہے ۔(بہارِ شریعت ، حصہ۱۶ ،ص۲۱۳،ماخوذًا)
مسئلہ :
محمد بخش ، احمد بخش ، پیر بخش اور اسی قسم کے دوسرے نام رکھنا جس میں نبی یا ولی کے نام کے ساتھ بخش کا لفظ ملا یا گیا ہو ، بالکل جائز ہے ۔(بہارِ شریعت ، حصہ۱۶ ،ص۲۱۴)
مسئلہ :
طہ ، یسین نام بھی نہ رکھے جائیں کہ یہ الفاظ مقطعاتِ قرآنیہ میں سے ہیں جن کے معانی معلوم نہیں۔(بہارِ شریعت ، حصہ۱۶ ،ص۲۱۳)
مسئلہ :
جو نام برُے ہوں انہیں بدل کر اچھے نام رکھنے چا ہیں ۔(بہارِ شریعت ، حصہ۱۶ ،ص۲۱۳)
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم برُے ناموں کو بدل دیا کرتے تھے ۔
(جامع الترمذی ، کتاب الادب ،باب ماجاء فی تغییر الاسماء ، الحدیث۲۸۴۸، ج۴،ص۳۸۲)
حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام پہلے برّہ تھا ،سرورِعالم، نورِمجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے (برّہ