مسلمان کی اولاد کو کل میدانِ محشر میں کفار کے ناموں سے پکارا جائے ۔والعیاذ باللہ
ہمارے معاشرے میں بچے کے نام کے انتخاب کی ذمہ داری عموماً کسی قریبی رشتہ دار مثلاً دادی ،پھوپھی ،چچا وغیرہ کو سونپ دی جاتی ہے اورعموماً مسائل شرعیہ سے نابلد ہونے کی وجہ سے وہ بچوں کے ایسے نام رکھ دیتے ہیں جن کے کوئی معانی نہیں ہوتے یا پھر اچھے معانی نہیں ہوتے ،ایسے نام رکھنے سے احتراز کیا جائے ۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے اسمائے مبارکہ اورصحابہ کرام وتابعین عظام اور اولیائے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ناموں پر نام رکھنے چاہیں جس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ بچے کا اپنے اسلاف رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روحانی تعلق قائم ہوجائے گا اور دوسرا ان نیک ہستیوں سے موسوم ہونے کی برکت سے اس کی زندگی پر مدنی اثرات مرتب ہوں گے ۔
حضرت سیدناابووہب جشمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے فرمایا:''انبیاء علیہم السلام کے ناموں پر نام رکھو۔''