Brailvi Books

تربیت اولاد
67 - 185
مسلمان کی اولاد کو کل میدانِ محشر میں کفار کے ناموں سے پکارا جائے ۔والعیاذ باللہ 

    ہمارے معاشرے میں بچے کے نام کے انتخاب کی ذمہ داری عموماً کسی قریبی رشتہ دار مثلاً دادی ،پھوپھی ،چچا وغیرہ کو سونپ دی جاتی ہے اورعموماً مسائل شرعیہ سے نابلد ہونے کی وجہ سے وہ بچوں کے ایسے نام رکھ دیتے ہیں جن کے کوئی معانی نہیں ہوتے یا پھر اچھے معانی نہیں ہوتے ،ایسے نام رکھنے سے احتراز کیا جائے ۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے اسمائے مبارکہ اورصحابہ کرام وتابعین عظام اور اولیائے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ناموں پر نام رکھنے چاہیں جس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ بچے کا اپنے اسلاف رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روحانی تعلق قائم ہوجائے گا اور دوسرا ان نیک ہستیوں سے موسوم ہونے کی برکت سے اس کی زندگی پر مدنی اثرات مرتب ہوں گے ۔

    حضرت سیدناابووہب جشمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے فرمایا:''انبیاء علیہم السلام کے ناموں پر نام رکھو۔''
 (سنن ابی داود ،کتاب الادب باب فی تغییر الاسماء ،الحدیث ۴۹۵۰،ج۴،ص۳۷۴)
    بچے کی کنیت رکھنا جائز ہے اور حصول ِ برکت کے لئے بزرگوں کی نسبت سے کنیت رکھنا بہتر ہے مثلاً ابوتراب (یہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ہے )وغیرہ
 (ماخوذ از بہارِ شریعت ،ج۳، حصہ ۱۶،ص۲۱۳)
    حضرت سيدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، سُرورِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا :''اپنے بچوں کی کنیت رکھنے میں جلدی کرو کہیں ان کے (برُے)القابات نہ پڑ جائیں ۔''
 (کنزالعمال،کتاب النکاح ،باب السابع،الفصل الاول ،الاکمال ،الحدیث ۴۵۲۲۲،ج۱۶،ص۱۷۶)
Flag Counter