(المعجم الاوسط ،الحدیث۵۵۸ ،ج۱، ص۱۷۰)
والدین کو چاہيے کہ بچے کا اچھا نام رکھیں کہ یہ ان کی طرف سے اپنے بچے کے لئے سب سے پہلا اور بنیادی تحفہ ہے جسے وہ عمر بھر اپنے سینے سے لگائے رکھتا ہے یہاں تک کہ جب میدانِ حشر بپا ہوگا تو وہ اسی نام سے مالکِ کائنات عزوجل کے حضوربلایا جائے گا جیسا کہ حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا :''قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤ گے لہٰذا اپنے اچھے نام رکھا کرو۔''
(سنن ابی داود ،کتاب الادب باب فی تغییر الاسماء ،الحدیث ۴۹۴۸،ج۴،ص۳۷۴)
اس حدیثِ پاک سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں جو اپنے بچے کانام کسی فلمی اداکار یا(معاذ اللہ عزوجل )کفار کے نام پر رکھ دیتے ہیں ، اس سے بدترین ذلت کیا ہوگی کہ