Brailvi Books

تربیت اولاد
64 - 185
کرتے تھے۔'
'(صحيح مسلم،کتاب الادب ،باب استحباب تحنیک ،الحدیث ۲۱۴۷،ص۱۱۸۴)
    حضرت سيدتنا اسماء بنت حضرت سيدناصديق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ :''وہ ہجرت کے بعد مدينہ منورہ آئيں تو مقام قبا ميں ان کے ہاں ولادت ہوئی اور حضرت عبد اللہ بن زبير رضی اللہ تعالیٰ عنہ پيدا ہوئے۔فرماتی ہيں کہ ميں بچہ کولے کر نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت اقدس ميں حاضر ہوئی اور ميں نے اس کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی مبارک گود ميں رکھ ديا ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے چھوہارا منگوايا اور اسے چبايا ،پھر اس ميں اپنا لعاب دہن ڈالا،پس سب سے پہلے اس کے پیٹ میں جو پہنچا وہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا لعاب مبارک تھا پھر اسے کھجور کی گھٹی دی،پھر اس کے ليے دعائے خير کی اور برکت سے نوازا ،يہ اسلام ميں پہلا بچہ پيدا ہواتھا۔ ''
 (صحيح بخاری،کتاب العقیقہ ،باب تسمیۃ المولود ...الخ ،ج۳،ص۵۴۶)
    حضرت سيدناابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بيان کرتے ہيں کہ ميرے ہاں لڑکا پيدا ہوا،ميں اس کو لے کر اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم کی بارگاہ ميں حاضر ہوا،آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اس کا نام ''ابراہيم''رکھا،اور اسے کھجور سے گھٹی دی ۔''
 (صحیح المسلم،کتاب الادب،باب استحباب تحنيک المولود....الخ ، الحديث ۲۱۴۵،ص ۱۱۸۴)
    حضرت سيدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بيان کرتے ہيں کہ جب حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بيٹے عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پيدا ہوئے تو ميں اسے لے کر خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین،
Flag Counter