| تربیت اولاد |
بچے کے کان میں اذان کہنے سے ان شاء اللہ عزوجل بلائیں دور ہوں گی ۔ چنانچہ حضرت سيدناحسين بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روايت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے ارشاد فرمايا:'' جس کے گھر ميں بچہ پيدا ہو اور وہ اس کے دائيں کان ميں اذان اور بائيں کان ميں اقامت کہے تو اس بچے سے ام الصبيان(کی بيماری)دور رہتی ہے۔''
(شعب الايمان،باب فی حقوق الاولاد والاھلين،الحديث ۸۶۱۹،ج۶،ص۳۹۰)
بہتر یہ ہے کہ داہنے کان میں چار مرتبہ اذان اور بائیں میں تین مرتبہ اقامت کہی جائے ۔(بہارشریعت ،حصہ۱۵،ص۱۵۳)
(2)تَحْنِیْک(گھٹی دلوانا):
دورِ رسالت سراپا برکت میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا معمول تھا کہ جب ان کے گھر کوئی بچہ پیدا ہوتا تو یہ اسے رحمتِ عالم ،نورِ مجسم ،شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں لاتے اور رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کھجور اپنے دہن ِ اقدس میں چبا کر بچے کے منہ میں ڈال دیتے جسے تَحْنِیْک کہتے ہیں ۔ یوں بچے کو لعابِ دہن کی برکتیں بھی نصیب ہوجاتیں ۔چنانچہ
ام المؤمنين حضرت سيدتنا عائشہ صديقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روايت ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ اقدس ميں لايا کرتے تھے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ان کے ليے خيرو برکت کی دعا فرماتے اور تَحْنِیْک فرمايا