جب بچہ پیدا ہو تومستحب یہ ہے کہ اس کے کان میں اذان واقامت کہی جائے کہ اس طرح ابتداء ہی سے بچے کے کان میں اللہ عزوجل اور اس کے پیارے محبوب ،دانائے غیوب،منزہ عن العیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا نام پہنچ جائے گا۔اس طرح ایک مسلمان بچے کے لئے اسلام کے بنیادی عقائد سکھانے کا بھی آغاز ہوجاتا ہے اور بچے کی روح نورِ توحید سے منور ہوتی ہے اور اس کے دل میں عشقِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی شمع فروزاں ہوتی ہے ۔
ہمارے پیارے مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی ولادت پران کے کان میں خود اذان دی جیسا کہ حضرت سيدنارافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہيں کہ ''جب حضرت سيدتنا فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے ہاں حضرت سيدناحسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہماکی ولادت ہوئی تو ميں نے اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم کو ان کے کان ميں نماز والی اذان ديتے ديکھا۔''