Brailvi Books

تربیت اولاد
61 - 185
سیدنا صدیقِ  اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنی بیٹی پر شفقت :
        حضرت سيدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ ايک مرتبہ کسی غزوہ سے حضرت سيدنا ابو بکر صديق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدينہ منورہ تشريف لائے ميں ان کے ساتھ ان کے گھر گيا ،کيا ديکھتا ہوں کہ ان کی صاحبزادی حضرت سيدتناعائشہ صديقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بخار ميں مبتلا ہيں اور ليٹی ہوئی ہيں چنانچہ حضرت سيدنا ابو بکر صديق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس تشريف لائے اور پوچھا کہ ''ميری بيٹی! طبيعت کیسی ہے؟''اور (ازراہ ِشفقت)ان کے رخسار پر بوسہ ديا۔''
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب ،باب فی قبلۃ الخد،الحدیث ۵۲۲۲،ج۴ ص ۴۵۵)
ایثار کرنے والی ماں:
    حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ۔ میں نے اسے تین کھجوریں دیں۔ اس نے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی ۔پھر جس کھجور کو وہ خود کھانا چاہتی تھی ،اس کے دوٹکڑے کر کے وہ کھجور بھی ان کو کھلا دی ۔مجھے اس واقعہ سے بہت تعجب ہوا ،میں نے نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی بارگاہ میں اس عورت کے ایثار کا بیان کیا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا :'' اللہ تعالیٰ نے اس( ایثار) کی وجہ سے اس عورت کے لئے جنت کو واجب کردیا ۔''
(صحیح مسلم،کتاب البر والصلۃ ،باب فضل الاحسان الی البنات ،الحدیث۲۶۳۰،ص۱۴۱۵)
Flag Counter