Brailvi Books

تربیت اولاد
60 - 185
زمین پر گرا دیا جس کی وجہ سے ان کا حمل ساقط ہوگیا ۔ نبی کریم رءوف  رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو اس واقعے سے بہت صدمہ ہوا چنانچہ آپ نے ان کے فضائل میں ارشادفرمایا :
''ھِیَ اَفْضَلُ بَنَاتِیْ اُصِیْبَتْ فِیَّ
یعنی یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے فضیلت والی ہے کہ میری طرف ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی ۔ جب آٹھ ہجری میں حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوگیا تو نمازِ جنازہ پڑھا کر خود اپنے مبارک ہاتھوں سے قبر میں اتارا ۔
 (شرح العلامۃ الزرقانی ،باب فی ذکر اولادہ الکرام ،ج۲،ص۳۱۸،ماخوذاً)
    (۳) حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نجاشی بادشاہ نے حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں کچھ زیورات بطورِ تحفہ بھیجے جن میں ایک حبشی نگینے والی انگوٹھی بھی تھی ۔ نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اس انگوٹھی کو چھڑی یا انگشتِ مبارکہ سے مس کیا اور اپنی نواسی امامہ کو بلایا جو شہزادی رسول حضرت سیدتنا زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بیٹی تھیں اور فرمایا :''اے چھوٹی بچی ! اسے تم پہن لو ۔''
 (سنن ابی داود،کتاب الخاتم،باب ماجاء فی ذھب للنساء ،الحدیث۴۲۳۵،ج۴،ص۱۲۵)
   (۴) حضرتِ سیدنا ابوقتا دہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ (اپنی نواسی)امامہ بنت ابوالعاص کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے ۔پھر آپ نماز پڑھانے لگے تو رکوع میں جاتے وقت انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے ۔''
 (صحیح البخاری ،کتاب الادب،باب رحمۃ الولد ،الحدیث۵۹۹۶،ج۴،ص۱۰۰)
Flag Counter