| تربیت اولاد |
(۵) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاروایت کرتی ہيں کہ مدینے کے سلطان ، رحمتِ عالمیان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا :'' جس شخص پر بیٹیوں کی پرورش کا بار پڑ جائے اور وہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرے تو یہ بیٹیاں اس کے لئے جہنم سے روک بن جائیں گی ۔''
(صحیح مسلم،کتاب البر والصلۃ ،باب فضل الاحسان الی البنات ،الحدیث۲۶۲۹،ص۱۴۱۴)
مدنی آقاصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم کی بیٹیوں پر شفقت:
(۱) حضرت سيدتنا فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم کی خدمتِاقدس ميں حاضر ہوتيں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کھڑے ہو جاتے ،ان کی طرف متوجہ ہو جاتے ،پھر ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ ميں لے ليتے ،اسے بوسہ ديتے پھر ان کو اپنے بيٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے ۔ اسی طرح جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے ہاں تشريف لے جاتے تو وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ديکھ کر کھڑی ہو جاتيں ،آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ ميں لے ليتيں پھراس کو چُومتیں اورآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو اپنی جگہ پر بٹھاتيں۔''
(سنن ابی داؤد، کتاب الادب ،با ب ماجاء فی القیام،الحدیث ۵۲۱۷،ج۴ ص۴۵۴)
(۲) حضرت سیدتنا زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اکرم ، نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی سب سے بڑی شہزادی ہیں جو اعلانِ نبوت سے دس سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں ۔ جنگ ِ بدر کے بعد حضور پرنور، شافعِ یوم النشور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کو مکہ سے مدینہ بلالیا ۔ جب یہ ہجرت کے ارادہ سے اونٹ پر سوار ہوکر مکہ سے باہر نکلیں تو کافروں نے ان کا راستہ روک لیا ۔ ایک ظالم نے نیزہ مار کر ان کو اونٹ سے