| تربیت اولاد |
کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک ناتواں وکمزور جان ہے جو ایک ناتواں سے پیدا ہوئی ہے ، جو شخص اس ناتواں جان کی پرورش کی ذمہ داری لے گا تو قیامت تک مددِ خدا عزوجل اس کے شاملِ حال رہے گی ۔''
(مجمع الزوائد،کتاب البر والصلۃ،باب ماجاء فی الاولاد،الحدیث۱۳۴۸۴،ج۸،ص۲۸۵)
(۲) حضرت نبیط بن شریط رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہی مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:''بیٹیوں کو بُرا مت کہو ،میں بھی بیٹیوں والا ہوں ۔بے شک بیٹیاں تو بہت محبت کرنے والیاں ، غمگسار، اور بہت زیادہ مہربان ہوتی ہیں ۔''
(مسند الفردوس للدیلمی،الحدیث۷۵۵۶،ج۲،ص۴۱۵)
(۳) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ نبی کریم ،رء وف ورحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمان ِ عظمت نشان ہے کہ'' جس کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے ایذاء نہ دے اور نہ ہی برا جانے اور نہ بیٹے کو بیٹی پر فضیلت دے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں داخل فرمائے گا۔''
(المستدرک للحاکم،کتاب البر والصلۃ ،الحدیث۷۴۲۸،ج۵،ص۲۴۸)
(۴) حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رحمتِ عالم ، نورِ مجسم ، شاہِ بنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا :''جس کی تین بیٹیاں ہوں ،وہ ان کا خیال رکھے ،ان کو اچھی رہائش دے ،ان کی کفالت کرے تو اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے ۔''عرض کی گئی :''اور دو ہوں تو؟'' فرمایا :''اور دوہوں تب بھی ۔'' عرض کی گئی : ''اگر ایک ہو تو ؟'' فرمایا :'' اگر ایک ہو تو بھی ۔''
(المعجم الاوسط ،الحدیث ۶۱۹۹،ج۴،ص۳۴۷)