Brailvi Books

تربیت اولاد
57 - 185
پیدائش پر ردِعمل
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

    بیٹا پیدا ہویا بیٹی ،انسان کو اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانا چاہيے کہ بیٹا اللہ عزوجل کی نعمت اور بیٹی رحمت ہے اور دونوں ہی ماں باپ کے پیار اور شفقت کے مستحق ہیں۔عموماً دیکھا گیا ہے کہ عزیز واقربا کی طرف سے جس مسرت کا اظہار لڑکے کی ولادت پر ہوتا ہے ،محلے بھر میں مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں ،مبارک سلامت کا شور مچ جاتاہے لڑکی کی ولادت پر اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتا۔ 

     دنیاوی طور پر لڑکیوں سے والدین اور خاندان کو بظاہر کوئی منفعت حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے برعکس ان کی شادی کے کثیر اخراجات کا بار باپ کے کندھوں پر آن پڑتا ہے شاید اسی لئے بعض نادان بیٹیوں کی ولادت ہونے پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور بچی کی امی کو طرح طرح کے طعنے دئيے جاتے ہیں، طلاق کی دھمکیاں دی جاتی ہیں بلکہ اوپر تلے بیٹیاں ہونے کی صورت میں اس دھمکی کو عملی تعبیر بھی دے دی جاتی ہے۔ ایسوں کوچاہيے کہ وہ ان روایات کو بار بار پڑھیں جن میں بیٹی کی پرورش پر مختلف بشارتوں سے نوازا گیا ہے ۔چنانچہ 

    (۱) حضرت نبیط بن شریط رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:'' جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گھر فرشتوں کو بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں ''اے گھر والو! تم پر سلامتی ہو ۔ پھر فرشتے اس بچی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس
Flag Counter