سنّتوں کی تربیت کے30 دن کے مَدَنی قافِلے میں عاشِقانِ رسول کے ہمراہ سفر کی میری نیّت تھی ۔اجتِماع کیلئے روانگی کے وقت، سامانِ قافِلہ ساتھ لیکر اَسپتال پہنچا ، چونکہ خاندان کے دیگر افراد تعاون کیلئے موجود تھے، اہلیہ مُحترِمہ نے اشکبار آنکھوں سے مجھے سنّتوں بھرے اجتِماع ( ملتان) کیلئے الوَداع کیا۔ میرا ذِہن یہ بنا ہوا تھا کہ اب تو مجھے بینَ الاقوامی سنّتوں بھرے اجتِماع اور پھر وہاں سے 30 دن کے مَدَنی قافِلے میں ضَرور سفر کرنا ہے کہ کاش! اس کی بَرَکت سے عافیّت کے ساتھ وِلادت ہو جائے۔ مجھ غریب کے پاس تو آپریشن کے اَخراجات بھی نہیں تھے! بَہَر حال میں مدینۃ الاولیا ملتان شریف حاضِر ہو گیا۔ سنّتوں بھرے اجتِماع میں خوب دعائیں مانگیں۔ اجتماع کی اختِتامی رقّت انگیز دعاء کے بعد میں نے گھر پرفون کیا تو میری امّی جان نے فرمایا، مبارک ہو! گزَشتہ رات ربِّ کائنات عزوجل نے بِغیر آپریشن کے تمھیں چاند سی مَدَنی مُنّی عطا فرمائی ہے۔ میں نے خوشی سے جھومتے ہوئے عرض کی، امّی جان ! میرے لئے کیا حکم ہے؟آ جاؤں یا30 دن کیلئے مَدَنی قافِلے کا مسافِر بنوں؟ امّی جان نے فرمایا، ''بیٹا !بے فکر ہو کر مَدَنی قافِلے میں سفر کرو۔''
اپنی مَدَنی مُنّی کی زیارت کی حسرت دل میں دبائے الحمدللہ عزوجل میں 30 دن کے مَدَنی قافِلے میں عاشقانِ رسول کے ساتھ روانہ ہوگیا۔الحمدللہ عزوجل مَدَنی قافِلے میں سفر کی نیّت کی بَرَکت سے میری مشکل آسان ہو گئی تھی مَدَنی قافِلوں کی بہاروں کی بَرَکت کے سبب گھر والوں کا بَہُت زبردست مَدَنی ذِہن بن گیا، حتّٰی کہ میرے بچوں کی امّی کا کہنا ہے، جب آپ مَدَنی قافِلے کے مسافِر