ایک اسلامی بھائی کی دو بیٹیاں تھیں ۔وہ اولادِ نرینہ سے محروم ہونے کی وجہ سے افسردہ رہا کرتے تھے ۔ان کی بچیوں کی امّی پھر امید سے تھیں ۔ کسی اسلامی بھائی کے مشورے پر انہوں نے عاشقانِ رسول کے مدنی قافلے میں ۳۰ دن کے لئے سفر اختیار کیا کہ اس کی برکت سے ان کے گھر بیٹا پیدا ہو۔ اللہ عزوجل کی شان دیکھئے کہ ابھی تیس دن پورے بھی نہ ہوئے تھے کہ انہیں سفر ہی کے دوران بیٹے کی ولادت کی خوشخبری مل گئی ۔ جب وہ راہِ خدا عزوجل میں تیس دن کے سفر کے بعد گھر لوٹے تو عجیب منظر تھا گھر میں خوشی بھی خوشی سے جھوم رہی تھی ۔ان کے ہاتھوں میں مدنی منّا اور ان کے چہرے پر جگمگاتی داڑھی شریف اور سر پر سبزسبز عمامے کا تاج سجا ہوا تھا ۔
ان کا دیوانہ عمامہ اور زُلف وریش میں
واہ ! دیکھو تو سہی لگتا ہے کتنا شاندار
(دعوتِ اسلامی کی بہاریں، قسط اول، ص۱۵)