ماجدہ رحمۃ اللہ علیہااکثر فرمایاکرتی تھیں:''ان شاء اللہ عزوجل میرا یہ لاڈلا بچہ عظیم شخصیت کا مالک ہوگا۔'' اور یہ دعا بھی کرتیں:''تمہارا نام سردار ہے ،اللہ تعالیٰ تجھے دین ودنیا کا سردار بنائے ۔'' اور دنیا نے دیکھا کہ آپ کی عظیم ماں کی دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسم بامسمیٰ بنا دیا ۔(حیاتِ محدثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ، ص۳۰)
(۱۰)بعض ماں باپ یہ جاننے کی جستجو میں رہتے ہیں کہ پیٹ میں بچہ ہے یا بچی ؟ اس کے لئے الٹراساؤنڈ بھی کروا ڈالتے ہیں۔پھر اپنی خواہش کے برعکس نتیجہ نکلنے پر (معاذ اللہ عزوجل )خصوصاً بیٹی ہونے کی صورت میں حمل ضائع کروانے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور یوں اپنے بد ترین جاہل ہونے کا ثبوت دیتے ہیں کیونکہ جتنی بھی سائنسی تحقیقات ہوتی ہیں ان کی بنیاد گمان پر ہوتی ہے انہیں کسی بھی طرح سے یقینی قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ اس لئے ہوسکتا ہے کہ آپ کو جوبتایا گیا ،حقیقت اس کے برعکس ہو۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اولاد کے سلسلے میں رضائے الٰہی عزوجل پر راضی رہنے میں ہی عافیت ہے ،ایسا نہ ہو کہ بیٹی کی پیدائش پر اس کی ماں سے نارواسلوک کرنے کی بنا پر رب تعالیٰ کی ناراضگی کاسامنا کرنا پڑے۔اس ضمن میں ایک عبرت ناک سچا واقعہ ملاحظہ فرمائيے:
کشمیر کے کسی علاقے میں ایک شخص کی 5بچیاں تھیں۔چھٹی بار ولادت ہونے والی تھی ۔ اس نے ایک دن اپنی بیوی سے کہا کہ اگر اب کی باربھی تو نے بچی کو جَنا تو میں تجھے نومولود بچی سمیت قتل کردوں گا ۔ رمضان المبارک کی تیسری شب پھر بچی ہی کی ولادت ہوئی ۔ صبح کے وقت بچی کی ماں کی چیخ وپکار کی پرواہ کئے بغیر اس بے رحم باپ نے (معاذ اللہ عزوجل) اپنی پھول جیسی زندہ بچی کو اٹھا کر پریشر کُکَر میں ڈال کر