حضرت سيدنا بايزيدبسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی والدہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہافرماتی ہيں کہ ''جس وقت بايزيد ميرے شکم ميں تھا تو اگر کوئی مشتبہ غذا ميرے شکم ميں چلی جاتی تو اس قدر بے چينی ہو تی کہ مجھے حلق ميں انگلی ڈال کر نکالنا پڑتی۔''
(تذکرۃ الاولياء،ذکر با یزید بسطامی،ص۱۲۹)
حضرت سيدنا سفيان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پيدائشی متقی تھے ،ايک مرتبہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی والدہ محترمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا نے ايام حمل ميں ہمسايہ کی کوئی چيز بلا اجازت منہ میں رکھ لی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پيٹ ميں تڑپنا شروع کر ديا اور جب تک انہوں نے ہمسايہ سے معذرت طلب نہ کی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا اضطراب ختم نہ ہوا۔''
(تذکرۃ الاولياء ،ذکر سفیان ثوری ،ص۱۷۴)
(۵)کھانے پینے ،لباس ، چلنے بیٹھنے ،سونے وغیرہ کے معاملات میں سنتوں پر عمل کرے ۔