| تربیت اولاد |
کو اپنا شعار اور بے پردگی کو اپنا وقار بنا لیا تو اولادیں بھی اسی ڈگر پر چل نکلیں اور فحاشی وعریانی اور بے راہ روی کاسیلاب حیا کو بہا کر لے گیا ۔الا ماشاء اللہ
بہرحال ماں کو چاہيے کہ
(۱)نیک اعمال کی کثرت کرے کہ والدین کی نیکیوں کی برکتیں اولاد کو ملتی ہیں ۔ (نیک اعمال کے فضائل جاننے کے لئے ''جنت میں لے جانے والے اعمال ''(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ کیجئے ۔)
(۲) نمازوں کی پابندی کرتی رہے ،ہرگز ہرگز سستی نہ کرے کہ ایسی حالت میں نماز معاف نہیں ہوجاتی۔
(۳) اس مرحلے پر تلاوتِ قرآن کرے کہ ہماری مقدس بیبیاں اس حالت میں بھی نورِ قرآن سے اپنے قلوب کو منوّر کیا کرتی تھیں ۔پندرہ پارے سنادئيے:
حضور سیدنا خواجہ قطب الحق والدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی عمر جس دن چاربرس چار مہینے چار دن کی ہوئی ۔تقریب ِبسم اللہ مقرر ہوئی تو لوگ بلائے گئے۔ حضرت خواجہ غریب ِنواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی موجود تھے ،بسم اللہ پڑھانا چاہی مگر الہام ہوا کہ ٹھہرو! حمید الدین ناگوری آتا ہے وہ پڑھائے گا۔ادھر ناگور (میں)قاضی حمید الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو الہام ہوا کہ جلد جا!میرے ایک بندے کو بسم اللہ پڑھا ۔ قاضی صاحب فوراً تشریف لائے اور آپ سے فرمایا :'' صاحبزادے پڑھئے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم'' آپ نے پڑھا
اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ،بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اور شروع سے لے کرپندرہ پارے حفظ سنا دئیے۔حضرت قاضی صاحب اور