Brailvi Books

تربیت اولاد
44 - 185
(۱۴)اپنے تمام بچوں سے یکساں سلوک کروں گا۔

(۱۵)انہیں علمِ دین سکھاؤں گا ۔

(۱۶)نافرمانی کا احتمال رکھنے والا کام حکماً نہيں فقط بطور مشورہ کہہ کر انہيں نافرمانی کی آفت سے بچاؤں گا۔

(۱۷)اگر کبھی میں نے انہیں کوئی کام(حکماً) کہا اور انہوں نے نہ کیا یا نافرمانی کر کے میرا دل دکھایا تو ان کو معاف کردوں گا۔(ماں باپ معاف کر بھی دیں تب بھی اولاد کو توبہ کرنی ہو گی کیوں کہ والدین کی نافرمانی میں اللہ عزوجل کی بھی نافرمانی ہے۔)

(۱۸)وقتاً فوقتاً اولاد کے نیک بننے اوربے حساب بخشے جانے کی دعا کرتا رہوں گا ۔

(۱۹) بالِغ ہو نے پر جلد تر شادی کی ترکیب کروں گا۔
صلوا علی الحبیب         صلَّی اللہ تعالٰی علی محمد
زمانہ حمل کی احتیاطیں
    چونکہ زمانہ حمل کے معاملات بچے کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اس لئے ماں کو چاہيے کہ خصوصاً زمانہ حمل میں اپنے افکار وخیالات کوپاکیزہ رکھنے کی کوشش کرے ۔اگر وہ یہ زمانہ کیبل اور وی ،سی آر پر فلمیں ڈرامے دیکھتے ہوئے گزارے گی تو شکم میں پلنے والی اولاد پر جواَثرات مرتب ہونگے وہ اولاد کے باشعور ہونے پر بآسانی ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ جب تک مائیں عبادت وریاضت کا شوق اور تلاوتِ قرآن کا ذوق رکھنے والی ہوتی تھیں ان کی گود میں پلنے والی اولاد بھی علم وعمل کا پیکر اور خوفِ خدا عزوجل کا مظہر ہوا کرتی تھی ۔جب ماؤں نے نمازیں ترک کرنا اپنا معمول،فیشن
Flag Counter