دو مدنی پھول: (۱) بغیر اچھی نیت کے کسی بھی عملِ خیر کا ثواب نہیں ملتا۔
(۲) جتنی اچھی نیتیں زیادہ، اتنا ثواب بھی زیادہ۔
(۱)اپنی اولاد کی سنّت کے مطابق تربیت کروں گا ۔
(۲)جب بچہ پيدا ہو اتو سيدھے کان ميں اذان اور بائيں ميں تکبير کہوں گا۔
(۳)بچی پيدا ہونے پر ناخوشی نہيں کروں گا بلکہ نعمت الٰہيہ جان کر شکر الٰہی عزوجل بجالاؤں گا۔
(۴)کسی بزرگ سے اس کی تَحْنِیْک کراؤں گا۔(یعنی ان سے درخواست کروں گاکہ وہ چھوہارا يا کوئی ميٹھی چيز چبا کر اس کے تالو پر لگادیں)
(۵) اگر لڑکا ہوا توحصولِ برکت کے لئے اس کا نام '' محمد ''یا''احمد'' رکھوں گا ۔
(۶)ساتھ ہی پکارنے کے لئے بزرگوں سے نسبت والا بھی کوئی نام رکھ لوں گا۔
(۷)حتی الامکان اس کے نام '' محمد ''یا''احمد'' کی نسبت سے اس کی تعظیم کروں گا۔
(۸)انہیں کسی جامِعِ شرائط پیر صاحب کا مرید بناؤں گا۔
(۹)ساتویں دن اس کا عقيقہ کروں گا۔(یومِ پیدائش کے بعد آنے والا ہر اگلا دن اُس کے لئے ساتواں دن ہوتا ہے مَثَلاً پیر شریف کو بچہ پیدا ہوا تو زندگی کی ہر اتوار اس کا ساتواں دن ہے )
(۱۰)سر کے بال اتروا کر ان کے برابر چاندی تول کر خيرات کروں گا۔
(۱۱)اولاد کو حلال کمائی سے کھِلاؤں گا۔
(۱۲)حرام کمائی سے بچاؤں گا۔
(۱۳)انہيں بہلانے کے ليے جھوٹا وعدہ کرنے سے بچوں گا۔