| تربیت اولاد |
کے نام سے،اے اللہ!ہميں شيطان سے محفوظ رکھ اور جو (اولاد)ہميں دے اسے بھی شيطان سے محفوظ رکھ۔''پس اگر ان کے لئے کوئی بچہ مقدر ہو گياتو اللہ تعالیٰ اسے ہميشہ شيطان سے محفوظ رکھے گا۔''
(صحیح مسلم،کتاب النکاح،باب ما یستحب ان یقولہ عند الجماع،ا لحديث۱۴۳۴،ص۷۵۱)
اس جذباتی موقع پر شرعی احکام پر عمل ہمیں شیطانی پنجوں سے بچا ئے گا اور ہماری نسلوں کی بھی حفاظت ہوگی ۔ وقتِجماع ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھنے اور زیادہ باتیں کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے ۔چنانچہ حضرت سيدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روايت ہے ،رسو ل اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمايا''جب تم ميں سے کوئی اپنی بيوی يا لونڈی سے جماع کرے تو اس کی شرمگاہ کی طرف نہ ديکھے کہ اس سے بچہ کے نابينا ہونے کا انديشہ ہے۔''(الکامل فی ضعفاء الرجال، بقیۃ ابن الولید،ج۲،ص۲۶۵)
حضرت سيدنا قبيصہ بن ذوہيب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں کہ:''جماع کے وقت زيادہ گفتگو نہ کرو کہ اس سے (بچے کے ) گونگا يا توتلا ہونے کا خطرہ ہے۔''(کنز العمال:کتاب النکاح،با ب محظورات المباشرۃ،ج ۱۶،ص۱۵۱، الحديث ۴۴۸۹۳ )
ربُّ الْعَالَمِین جل جلالہ کا شکر ادا کیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
انسان کوچاہے کہ جب اولاد کے حوالے سے کوئی'' اچھی خبر'' ملے تو سجدہ شکر بجالائے کیونکہ شکر ِ نعمت سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ
ترجمہ کنزالایمان :اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دونگا۔(پ۱۳،ابراہیم: ۷)