Brailvi Books

تربیت اولاد
40 - 185
(بلا اجازتِ شَرعی) چار بار دھونا اِسراف مانا گیا ہے ۔ ''(نورُالعرفان، ص۲۳۲)

    معلوم ہوا کہ ضرورت سے زیادہ خرچ بھی بے جاخرچ (یعنی اسراف) ہے مگر عام مشاہدہ ہے کہ احتیاط پسندی کی عادت رکھنے والے اسلامی بھائی بھی ایسے موقع پر بے احتیاطی کرجاتے ہیں،مثلاً مہمانوں کی تعداد سے کہیں زیادہ کھانا تیار کروا لیا جاتا ہے جس کے بچ جانے کی صورت میں خراب ہونے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ۔
(7)تخلیہ میں شرعی حدود کی پاسداری کرے :
        جب شوہر اپنی بیوی سے مباشرت کا ارادہ کرے تو شریعت نے اس کے بھی آداب بتائے ہیں ۔ چنانچہ شادی کی پہلی رات شوہر کو چاہيے کہ بیوی کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھے :
    اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَ ھَا وَخَیْرَمَاجَبَلْتَھَا عَلَیْہِ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّھَا وَ(مِنْ) شَرِّمَاجَبَلْتَھَا عَلَیْہِ
یعنی : یااللہ عزوجل ! میں تجھ سے اس کی بھلائی چاہتا ہوں اور خاص طور پر جو بھلائی تونے اس کی فطرت میں رکھی ہے اور اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو اس کی فطرت میں ہے ۔''
( سنن ابی داؤد،کتاب النکاح،باب فی جامع النکاح،الحدیث ۲۱۶۰،ج۲،ص۳۶۲)
    حضرت سيدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روايت ہے،سيد دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمايا''جب تم ميں سے کوئی شخص اپنی بيوی سے جماع کا ارادہ کرے تو يہ دعا پڑھے:
    '' بِسْمِ اللہِ، اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنَا الشّيْطٰنَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا
یعنی اللہ
Flag Counter