Brailvi Books

تربیت اولاد
38 - 185
     بینڈ باجے والے بلوائے جاتے ہیں جو بارات کی آمد کے موقع پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ساز وآلات بجانے کے گناہ کمانے کے ساتھ ساتھ سوئے ہوئے مسلمانوں اور مریضوں کو اذیت بھی پہنچاتے ہیں۔

    رخصتی کے موقع پر دُودھ پلائی کی رسم ادا کی جاتی ہے جس میں دولہے کو نامحرم خواتین کے مجمع میں بلایا جاتا ہے ۔ اس کے دوست ایسے موقع پر اسے تنہا نہیں چھوڑتے اور اس کے ساتھ ہی تشریف لاتے ہیں۔پھرکوئی نامحرم نوجوان لڑکی اپنی ہمجولیوں کے جھرمٹ میں''بڑی محبت سے '' دولہے کودودھ کا گلاس پیش کرتی ہے اور پھر ''ہلہ گلہ''ہوتا ہے اوردولہا کے دوست نامحرم عورتوں کے ساتھ'' ہنسی مذاق'' کا شغل کرتے ہیں ، پھر آخر میں دولہے سے دودھ پلائی کا مطالبہ کیاجاتا ہے جوعموماً اس کی حیثیت سے کئی گنا زائدہوتی ہے ایسے موقع پر بے پردگی کے علاوہ بھی بہت تکلیف دہ مناظر دکھائی دیتے ہیں ۔

     آتش بازی حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے مگر بعض لوگ ان کاموں کا اتنا اہتمام کرتے ہیں کہ یہ نہ ہوں تو گویا شادی ہی نہ ہوئی بلکہ بعض تو اتنے بیباک ہوتے ہیں کہ اگر شادی میں یہ حرام کام نہ ہوں تو اسے غمی اور جنازہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ خیال نہیں کرتے کہ ایک تو گناہ اور شریعت کی مخالفت ہے ،دوسرے مال ضائع کرنا، تیسرے تمام تماشائیوں کے گناہ کا یہی سبب ہے اور سب کے مجموعہ کے برابر اس پر گناہ کا بوجھ۔مگرآہ!ایک وقتی خوشی میں یہ سب کچھ کر لیا جاتا ہے ۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر لازم ہے کہ اپنے ہر کام کو شریعت کے موافق کريں