پہنے خوب بن سنور کر بے پردہ حالت میں بازاروں اور گلیوں میں سے مہندی کے تھال لئے ہوئے گزرتی ہیں اورپھردلہن یادولہاکے گھر جاکر ناچ گانے کی ''پرائیویٹ'' محفل سجاتی ہیں اور طرح طرح کے فتنوں کے پیدائش کا ذریعہ بنتی ہیں ۔ اے کاش ! ایسی اسلامی بہنوں کو چادرِ حیاء نصیب ہوجائے اور وہ اس بے ہودہ رسم سے باز آجائیں ۔
اسی پر بس نہیں بلکہ اب تو باقاعدہ فنکشن کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں سازوآلات کے ساتھ گلوکاروں اور گلوکاراؤں سے اسپیکر پرگانے سنے جاتے ہیں اور طوائفوں کا ناچ دیکھا جاتا ہے اورہاتھ پیٹ پیٹ کر تالیوں کی صورت میں انہیں ''داد '' بھی دی جاتی ہے۔ اس قسم کی محافل میں جن فواحش و بدکاریوں اور مخرب اخلاق باتوں کا اجتماع ہوتاہے ان کے بیان کی حاجت نہیں ۔معاذ اللہ عزوجل ماں باپ ،بیٹا بیٹی،بھائی بہن ایک ساتھ ان خوشیوں میں مگن ہوتے ہیں اور'' حیا''دُور کھڑی شرم سے پانی پانی ہو رہی ہوتی ہے۔ایسی ہی محفلوں کی وجہ سے اکثر نوجوان آوارہ ہو جاتے ہیں اوراپنا دھن دولت برباد کر بیٹھتے ہیں ۔انہیں طوائف سے محبت اور اپنی زوجہ سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔
منگنی شادی کے وعدہ کا نام ہے ۔ لیکن اس موقع پر بھی بے ہودہ رسموں کا انعقاد ضروری سمجھا جاتا ہے جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لڑکا خود اپنے ہاتھوں سے اپنی منگیتر کے ہاتھ میں انگوٹھی پہناتا ہے ۔
مرد کو سر اور داڑھی کے بالوں کے سوا مہندی لگانا ناجائز ہے مگر اکثر دولہے اپنے ہاتھ بلکہ پاؤں کو بھی مہندی سے رنگے ہوئے ہوتے ہیں ۔