اسی طرح عورت اس مرد کو جس نے اس کے پاس پيغام بھيجا ديکھ سکتی ہے اگرچہ انديشہِ شہوت ہو مگر ديکھنے ميں دونوں کی نيت يہی ہو کہ حديث پاک پر عمل کرنا چاہتے ہيں ۔
(الدرالمختاروردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ ،فصل فی النظر والمس ،ج۹،ص ۶۱۰ماخوذاً)
(4) منگنی اور شادی کے موقع پر ناجائز رسومات سے بچے :
ہمارے معاشرے میں منگنی اور شادی کے موقع پرمختلف رسومات ادا کرنے کا بہت زیادہ رواج ہے ۔پھرہرعلاقے ،ہر قوم اورہر خاندان کی اپنی مخصوص رسوم ہوتی ہیں ۔ چونکہ یہ رسوم محض عرف کی بنیاد پر ادا کی جاتی ہیں اور کوئی بھی انہیں فرض وواجب تصور نہیں کرتا لہٰذا جب تک کسی رسم میں کوئی شرعی قباحت نہ پائی جائے اسے حرام و ناجائز نہیں کہہ سکتے ۔چنانچہ رسوم کی پابندی اسی حد تک کی جاسکتی ہے کہ کسی فعل ِحرام میں مبتلا نہ ہونا پڑے مگربعض لوگ اس قدر پابندی کرتے ہیں کہ ناجائز فعل کرنا پڑے تو پڑے مگر رسم کا چھوڑنا گوارا نہیں مثلاً لڑکی جوان ہے اور رسوم ادا کرنے کو روپیہ نہیں تو یہ نہ ہو گا کہ رسوم چھوڑ دیں اور نکاح کر دیں کہ سبکدوش ہو جائیں اور فتنہ کا دروازہ بند ہوبلکہ سُود جیسی لعنت کوگلے لگانے کے لئے تیار ہوجاتے