| تربیت اولاد |
ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارصلَّی اللہ تعالی علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا:'' تقوٰی کے بعد مومن کے لیے نیک بی بی سے بہتر کوئی چیز نہیں اگر اسے حکم کرتاہے تو وہ اطاعت کرتی ہے اور اسے دیکھے تو خوش کر دے اور اس پر قسم کھا بیٹھے تو قسم سچی کر دے اوراگر وہ کہیں چلا جائے تو اپنے نفس اور شوہر کے مال میں بھلائی کرے (یعنی خیانت و ضائع نہ کرے)۔''
(سنن ابن ماجہ ،کتاب النکاح ،باب فضل النساء ،الحدیث ۱۸۵۷،ج۲،ص۴۱۴)
(۳)حضرت سيدناعبد اللہ بن عمرورضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ،نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالی علیہ والہٖ وسلم نے ارشاد فرمايا:''بے شک دنيا بہترين استعمال کی چيز ہے ليکن اس کے باوجود نيک اور صالحہ عورت دنيا کے مال و متاع سے بھی افضل و بہترين ہے ۔''
(سنن ابن ماجہ،کتاب النکاح،باب فضل النساء ،الحدیث ۱۸۵۵،ج ۲،ص۴۱۲)
(۴)حضرت سيدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ روايت فرماتے ہيں کہ رسول پاک،صاحب لولاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمايا:''عورتوں سے ان کے حسن کی وجہ سے نکاح نہ کرواور نہ ہی ان کے مال کی وجہ سے نکاح کرو،کہيں ایسا نہ ہو کہ ان کا حسن اور مال انہيں سرکشی اور نافرمانی ميں مبتلا کر دے ،بلکہ ان کی دينداری کی وجہ سے ان کے ساتھ نکاح کرو۔کيونکہ چپٹی ناک،اور سياہ رنگ والی کنيز دين دارہو تو بہتر ہے ۔''
(سنن ابن ماجہ،کتاب النکاح،باب تزويج ذات الدين، الحديث ۱۸۵۹ ،ج۲،ص۴۱۵)