عمدہ سے عمدہ بیج بھی اسی وقت اپنے جوہر دکھا سکتا ہے جب اس کے لئے عمدہ زمین کا انتخاب کیا جائے ۔ ماں بچے کے لئے گویا زمین کی حیثیت رکھتی ہے ،لہٰذا بیوی کے انتخاب کے سلسلے میں مرد کوبہت احتیاط سے کام لینا چاہيے کہ ماں کی اچھی یا بری عادات کل اولاد میں بھی منتقل ہوں گی ۔متعدد احادیث ِ کریمہ میں مرد کو نیک ، صالحہ اور اچھی عادات کی حامل پاک دامن بیوی کا انتخاب کرنے کی تاکیدکی گئی ہے چنانچہ
(۱)حضرت سيدنا ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روايت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمايا:''کسی عورت سے نکاح کرنے کے ليے چار چيزوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے ،(۱)اس کا مال،(۲)حسب نسب،(۳)حسن و جمال اور(۴)دين۔'' پھر فرمایا:''تمہارا ہاتھ خاک آلود ہوتم ديندار عورت کے حصول کی کوشش کرو۔''