Brailvi Books

تربیت اولاد
27 - 185
تو اُن کو جھاڑ دیتا ۔ وہ بے چارے بعض اوقات رو پڑتے۔ دعائیں مانگتے مانگتے ماں کی پلکیں بھیگ جاتیں۔ اُس عظیم لمحے پر لاکھوں سلام جس'' لمحے ''میں مجھے دعوتِ اسلامی والے ایک عاشقِ رسول سے مُلاقات کی سعادت ملی اور اُس نے مَحبَّت اور پیار سے اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے مجھ پاپی و بدکار کو مَدَنی قافِلے میں سفر کیلئے تیّار کیا۔چُنانچِہ میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ تین دن کے مَدَنی قافِلے کامسافِر بن گیا۔ 

    نہ جانے ان عاشقانِ رسول نے تین دن کے اندر کیا گھول کر پلا دیا کہ مجھ جیسے ڈِھیٹ انسان کا پتّھر نُما دل جو ماں باپ کے آنسوؤں سے بھی نہ پگھلتا تھا موم بن گیا ، میرے قلب میں مَدَنی انقِلاب برپا ہو گیااور میں مَدَنی قافِلے سے نَمازی بن کر لوٹا۔ گھر آ کر میں نے سلام کیا ، والِد صاحِب کی دست بوسی کی اور امّی جان کے قدم چومے ۔ گھر والے حیران تھے! اس کو کیا ہو گیا ہے کہ کل تک جو کسی کی بات سننے کیلئے تیّار نہیں تھا وہ آج اتنا باادب بن گیا ہے!الحمدللہ عزوجل! مَدَنی قافِلے میں عاشقانِ رسول کی صحبت نے مجھے یکسر بدل کر رکھ دیااور یہ بیان دیتے وقت مجھ سابِقہ بے نَمازی کومسلمانوں کو نَمازِ فجر کیلئے جگانے یعنی صدائے مدینہ لگانے کی ذِمّہ داری ملی ہوئی ہے۔(دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں مسلمانوں کو نَمازِ فجر کیلئے اٹھانے کو صدائے مدینہ لگانا کہتے ہیں۔)
گر چہِ    اعمالِ بد،  اور  اَفعالِ   بد     	نے ہے رُسوا کیا ،قافِلے میں چلو

کر سفر آؤ گے ،تم سُدھر جاؤ گے	        مانگو  چل کر دُعا ،قافِلے میں چلو
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
    ( فیضانِ سنت ،باب فیضانِ رمضان،نفل روزوں کے فضائل،ج۱،ص۱۳۷۰)
Flag Counter