Brailvi Books

تربیت اولاد
25 - 185
اس پر عامل بھی ہوں کیونکہ جس کی اپنی نماز دُرُست نہیں وہ کسی کودُرُست نماز پڑھنا کیسے سکھائے گا ، جو خودکھانے پینے، لباس پہننے اور دیگر کاموں کو سنت کے مطابق کرنے کا عادی نہیں وہ اپنی اولاد کو سنتوں کا عامل کس طرح بنائے گا ، جو خود روزے وغیرہ کے مسائل نہیں جانتا وہ اپنی اولاد کو کیا سکھائے گا علیٰ ھذا القیاس ۔

     تربیت کرنے والوں کے قول وفعل میں پایا جانے والا تضاد بھی بچے کے ننھے سے ذہن کے لئے بے حدباعث ِ تشویش ہوگا کہ ایک کام یہ خود تو کرتے ہیں مثلاًجھوٹ بولتے ہیں،آپس میں جھگڑتے ہیں مگر مجھے منع کرتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اپنے بڑوں کی کوئی نصیحت اس کے دل میں گھر نہ کرسکے گی ۔ الغرض تربیتِ اولاد کے لئے والدین کا اپناکردار بھی مثالی ہونا چاہے ۔

     اس کے ساتھ ساتھ گھریلو ماحول کا بھی بچوں کی زندگی پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ اگر گھر والے نیک سیرت، شریف اور خوش اخلاق ہوں گے تو ان کے زیرِ سایہ پلنے والے بچے بھی حسنِ اخلاق کے پیکر اور کردار کے غازی ہوں گے اس کے برعکس شرابی ، عیاش اور گالم گلوچ کرنے والوں کے گھر میں پرورش پانے والا بچہ ان کے ناپاک اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا ۔ الغرض بچوں کی تربیت صرف پڑھانے پرموقوف نہیں ہوتی بلکہ مختلف رویّوں ، باتوں اور باہمی تعلقات سے بھی بچوں کی ذہنی تربیت ہوتی ہے۔
مثالی کردار کیسے اپنائیں؟
    اس مَدَنی و مثالی کردار کے حصول کے لئے والدین کو پریشان ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں ، الحمدللہ عزوجل ! تبلیغ ِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی
Flag Counter