ایسے والدین کو چاہيے کہ بچپن ہی سے اولاد کی تربیت پر بھر پور توجہ دیں کیونکہ اس کی زندگی کے ابتدائی سال بقیہ زندگی کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں اوریہ بھی ذہن میں رہے کہ پائیدار عمارت مضبوط بنیاد پر ہی تعمیر کی جاسکتی ہے ۔ جو کچھ بچہ اپنے بچپن میں سیکھتا ہے وہ ساری زندگی اس کے ذہن میں راسخ رہتا ہے کیونکہ بچے کا دماغ مثل ِ موم ہوتا ہے اسے جس سانچے میں ڈھالنا چاہیں ڈھالا جا سکتا ہے ،۔۔۔۔۔۔ بچے کی یاداشت ایک خالی تختی کی مانند ہوتی ہے اس پر جو لکھا جائے گا ساری عمر کے لئے محفوظ ہوجائے گا،۔۔۔۔۔۔ بچے کاذہن خالی کھیت کی مثل ہے اس میں جیسا بیج بوئیں گے اسی معیارکی فصل حاصل ہوگی ۔یہی وجہ ہے کہ اگر اسے بچپن ہی سے سلام کرنے میں پہل کرنے کی عادت ڈالی جائے تو وہ عمر بھر اس عادت کونہیں چھوڑتا ، اگراُ سے سچ بولنے کی عادت ڈالی جائے تو وہ ساری عمر جھوٹ سے بیزاررہتا ہے ، اگراُسے سنّت کے مطابق کھانے پینے ، بیٹھنے، جوتا پہننے ، لباس پہننے ،سر پرعمامہ باندھنے اور بالوں میں کنگھی وغیرہ کرنے کا عادی بنادیا جائے تو وہ نہ صرف خود ان پاکیزہ عادات کو اپنائے رکھتا ہے بلکہ اس کے یہ مدنی اوصاف اس کی صحبت میں رہنے والے دیگر بچوں میں بھی منتقل ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔