Brailvi Books

تربیت اولاد
24 - 185
ایسے والدین کو چاہيے کہ بچپن ہی سے اولاد کی تربیت پر بھر پور توجہ دیں کیونکہ اس کی زندگی کے ابتدائی سال بقیہ زندگی کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں اوریہ بھی ذہن میں رہے کہ پائیدار عمارت مضبوط بنیاد پر ہی تعمیر کی جاسکتی ہے ۔ جو کچھ بچہ اپنے بچپن میں سیکھتا ہے وہ ساری زندگی اس کے ذہن میں راسخ رہتا ہے کیونکہ بچے کا دماغ مثل ِ موم ہوتا ہے اسے جس سانچے میں ڈھالنا چاہیں ڈھالا جا سکتا ہے ،۔۔۔۔۔۔ بچے کی یاداشت ایک خالی تختی کی مانند ہوتی ہے اس پر جو لکھا جائے گا ساری عمر کے لئے محفوظ ہوجائے گا،۔۔۔۔۔۔ بچے کاذہن خالی کھیت کی مثل ہے اس میں جیسا بیج بوئیں گے اسی معیارکی فصل حاصل ہوگی ۔یہی وجہ ہے کہ اگر اسے بچپن ہی سے سلام کرنے میں پہل کرنے کی عادت ڈالی جائے تو وہ عمر بھر اس عادت کونہیں چھوڑتا ، اگراُ سے سچ بولنے کی عادت ڈالی جائے تو وہ ساری عمر جھوٹ سے بیزاررہتا ہے ، اگراُسے سنّت کے مطابق کھانے پینے ، بیٹھنے، جوتا پہننے ، لباس پہننے ،سر پرعمامہ باندھنے اور بالوں میں کنگھی وغیرہ کرنے کا عادی بنادیا جائے تو وہ نہ صرف خود ان پاکیزہ عادات کو اپنائے رکھتا ہے بلکہ اس کے یہ مدنی اوصاف اس کی صحبت میں رہنے والے دیگر بچوں میں بھی منتقل ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔
تربیت کرنے والے کو کیسا ہوناچاہے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

        اِسلامی خطوط پرتربیتِاولادکا خواب اسی وقت شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے جب اس کے والدین اور گھر کے دیگر افراد قدرِ کفایت علمِ دین کے حامل ہوں بلکہ
Flag Counter