تنبیہ الغافلین میں ہے کہ سمرقند کے ایک عالم ابوحفص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا:''میرے بیٹے نے مجھے ماراہے اور تکلیف دی ہے۔'' انہوں نے حیرانگی سے پوچھا:''کیا کبھی بیٹا بھی باپ کو مارتا ہے ؟'' اس نے جواب دیا : ''جی ہاں! ایسا ہوا ہے ۔'' ابوحفصرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دریافت کیا :''کیاتونے اسے علم وادب سکھایا ہے ؟'' اس شخص نے نفی میں جواب دیا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا: ''قرآن کریم سکھایا ہے؟'' اس نے پھر نفی میں جواب دیا تو آپ نے پوچھا:''پھر وہ کیا کرتا ہے؟'' اس نے بتایا:''وہ کھیتی باڑی کرتا ہے۔''
ابوحفص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''کیا تجھے معلوم ہے کہ اس نے تجھے کیوں مارا ہے ؟'' اس نے کہا:''نہیں۔'' ابوحفص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس پر چوٹ کی:''میرا خیال تو یہ ہے کہ جب صبح کے وقت وہ گدھے پر سوار ہوکر کھیت کی طرف جارہا ہوگا ، بیل اس کے آگے اور کتاّ اس کے پیچھے ہوگا ،قرآن اسے پڑھناآتا نہیں لہٰذا وہ کچھ گنگنا رہا ہوگا ،ایسے میں تم اس کے سامنے آئے ہوگے ۔ اس نے سمجھا ہوگا کہ گائے ہے اور تمہارے سر پر کوئی چیز دے ماری ہوگی ،شکر کرو کہ تمہارا سر نہیں پھوڑ دیا۔''