| تربیت اولاد |
علیہ والہٖ وسلّم! ہم اپنے اہل وعیال کو آتش ِ جہنم سے کس طرح بچا سکتے ہیں ؟'' سرکارِ مدینہ ،فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:'' تم اپنے اہل وعیال کو ان چیزوں کاحکم دو جو اللہ عزوجل کو محبوب ہیں اور ان کاموں سے روکوجو رب تعالیٰ کو ناپسندہیں۔''
(الدر المنثور للسیوطی ،ج۸،ص۲۲۵)
اورحضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے :''تم سب نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔بادشاہ نگران ہے ، اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ آدمی اپنے اہل وعیال کا نگران ہے اس سے اس کے اہل وعیال کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ عورت اپنے خاوند کے گھر اور اولادکی نگران ہے اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔''
(صحیح البخاری،کتاب العتق،باب کراہیۃالتطاول ....الخ،الحدیث ۲۵۵۴،ج۲،ص۱۵۹)
تربیتِ اولاد کی اہمیت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
اگرہم اسلامی اقدار کے حامل ماحول کے مُتَمَنِّی (یعنی خواہش مند) ہیں تو ہمیں اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی مَدَنی تربیت بھی کرنی ہوگی کیونکہ اگرہم تربیتِ اولاد کی اہم ذمہ داری کو بوجھ تصور کر کے اس سے غفلت برتتے رہے اور بچوں کو ان خطرناک حالات میں آزاد چھوڑ دیا تو نفس وشیطان انہیں اپنا آلہ کار بنا لیں گے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نفسانی خواہشات کی آندھیاں انہیں صحرائے عصیاں (یعنی