Brailvi Books

تربیت اولاد
20 - 185
کرنے کا طریقہ نہ بتایا ۔ ارتکابِ گناہ کی مادر پدر آزادی اور لہوولعب کے طرح طرح کے آلات کا بلاروک ٹوک استعمال ،کیبل ،وی سی آرکی کارستانیاں، رقص وسرود کی محفلوں میں انہماک اوربگڑا ہوا گھریلوماحول ،یہ سب کچھ بچے کی طبیعت میں شیطانیت ونفسانیت کو اتنا قد آور کردیتا ہے کہ اس سے پاکیزہ کردار کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی جیسے گندے نالے میں ڈبکی لگانے والے کے جسم کی طہارت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
اولاد کے بگڑنے کا ذ مہ دار کون؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

    عموماً دیکھا گیا ہے کہ بگڑی ہوئی اولادکے والدین اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کر کے خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں مگریاد رکھئے اولاد کی تربیت صرف ماں یامحض باپ کی نہیں بلکہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَ اَہۡلِیۡکُمْ نَارًا وَّ قُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَۃُ عَلَیۡہَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوۡنَ اللہَ مَاۤ اَمَرَہُمْ وَ یَفْعَلُوۡنَ مَا یُؤْمَرُوۡنَ ﴿۶﴾
ترجمہ کنز الايمان:اے ايمان والو اپنی جانوں اوراپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤجس کے ايندھن آدمی اور پتھر ہيں اس پر سخت کرّے(طاقتور)فرشتے مقرر ہيں جو اللہ کاحکم نہيں ٹالتے اورجو انہيں حکم ہو وہی کرتے ہيں ۔(پ ۲۸،تحريم:۶)

    جب نبی اکرم ، نورِ مجسّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے یہ آیتِ مبارکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے سامنے تلاوت کی تو وہ یوں عرض گزار ہوئے : ''یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ
Flag Counter