ہے، ٹی.وی ، وی سی آر ، ڈش انٹینا ، انٹر نیٹ اور کیبل کاغلط استعمال کرنے والوں نے اپنی آنکھوں سے حیادھو ڈالی ہے، تکمیل ِ ضروریات وحصول ِسہولیات کی جد وجہدنے انسان کو فکرِ آخرت سے یکسرغافل کردیا ہے،یہی وجہ ہے دنیاوی شان و شوکت اورظاہری آن بان مسلمانوں کے دلوں کو اپناگرویدہ بناچکی ہے مگر افسوس !اپنی قبر کو گلزارِجنت بنانے کی تمنا دلوں میں گھر نہیں کرتی ۔ان نامساعد حالات کا ایک بڑا سبب والدین کا اپنی اولاد کی مدنی تربیت سے غافل ہونا بھی ہے کیونکہ فرد سے افراد اور افراد سے معاشرہ بنتا ہے تو جب فرد کی تربیت صحیح خطوط پر نہیں ہوگی تو اس کے مجموعے سے تشکیل پانے والا معاشرہ زبوں حالی سے کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے ۔جب والدین کا مقصدِ حیات' حصولِ دولت ،آرام طلبی ، وقت گزاری اور عیش کوشی بن جائے تووہ اپنی اولاد کی کیا تربیت کریں گے اور جب تربیتِاولادسے بے اعتناعی کے اثرات سامنے آتے ہیں تو یہی والدین ہر کس وناکس کے سامنے اپنی اولاد کے بگڑنے کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایسے والدین کو غورکرنا چاہيے کہ اولاد کو اس حال تک پہنچانے میں ان کاکتنا ہاتھ ہے کیونکہ انہوں نے اپنے بچے کو ABC بولنا تو سکھایا مگر قرآن پڑھنا نہ سکھایا ، مغربی تہذیب کے طور طریقے تو سمجھائے مگررسول عربی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم کی سنتّیں نہ سکھائیں ، جنرل نالج (معلوماتِ عامہ)کی اہمیت پر اس کے سامنے گھنٹوں کلام کیا مگر فرض دینی علوم کے حصول کی رغبت نہ دلائی ، اس کے دل میں مال کی محبت تو ڈالی مگر عشق ِ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم کی شمع فروزاں نہ کی ، اسے دنیاوی ناکامیوں کا خوف تو دلایا مگرامتحان قبر وحشر میں ناکامی سے وحشت نہ دلائی ،اسے ہائے ہیلو کہنا تو سکھایا مگر سلام