Brailvi Books

تربیت اولاد
18 - 185
نے ديکھا تو حيران رہ گيا اور نوجوان کو اپنے سردار کے پاس لے گيا اور سار اواقعہ بيا ن کيا۔ سردار نے کہا ''نوجوان !کيا بات ہے لوگ تو ڈاکوؤں سے اپنی دولت چھپاتے ہيں مگر تم نے سختی کيے بغير اپنی دولت ظاہر کر دی؟''نوجوان نے کہا ''ميری ماں نے گھر سے چلتے وقت مجھے نصیحت فرمائی تھی کہ'' بيٹا!ہر حال ميں سچ بولنا ۔''بس ميں اپنی والدہ کے ساتھ کيا ہو اوعدہ نبھا رہا ہوں۔

    نوجوان کا يہ بيا ن تاثير کاتير بن کر ڈاکوؤں کے سردار کے دل ميں پيوست ہوگيا اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا درياچھلکنے لگا ۔اس کاسويا ہوامقدر جاگ اٹھا ، وہ کہنے لگا''صاحبزادے!تم کس قدر خوش نصیب ہو کہ دولت لٹنے کی پرواہ کيے بغير اپنی والدہ کے ساتھ کيے ہوئے وعدے کو نبھا رہے ہو اور ميں کس قدر ظالم ہوں کہ اپنے خالق ومالک کے ساتھ کيے ہوئے وعدے کو پامال کر رہا ہوں اور مخلوق خدا کا دل دکھا رہا ہوں۔ ''يہ کہنے کے بعدوہ ساتھيوں سميت سچے دل سے تائب ہو گيا اورلوٹا ہوا سارا مال واپس کر ديا۔
(تاریخ مشائخ قادریہ ،جلد اول ، ص۱۲۱تا۱۲۲:بہجۃ الاسرار ،ذکر طریقہ رضی اللہ عنہ،ص۱۶۸ماخوذاً)
نامساعد حالات اور بگڑی ہوئی اولاد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

    موجودہ حالات میں اخلاقی قدروں کی پامالی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ نیکیاں کرنابے حد دُشوار اوراِرتکابِ گناہ بہت آسان ہوچکاہے ،مسجدوں کی ویرانی اور سینماگھروں وڈرامہ تھیٹروں کی رونق ' دین کا درد رکھنے والوں کوآٹھ آٹھ آنسو رُلاتی
Flag Counter