Brailvi Books

تربیت اولاد
17 - 185
بڑا دخل ہوتا ہے ۔ایک مرتبہ ایک مجرم کو تختہ دار پر لٹکایا جانے والا تھا ۔جب اس سے اسکی آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ میں اپنی ماں سے ملنا چاہتا ہوں۔ اس کی یہ خواہش پوری کردی گئی ۔جب ماں اس کے سامنے آئی تو وہ اپنی ماں کے قریب گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کا کان نوچ ڈالا ۔ وہاں پر موجود لوگوں نے اسے سرزنش کی کہ نامعقول ابھی جبکہ تو پھانسی کی سزا پانے والا ہے تونے یہ کیا حرکت کی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے پھانسی کے اس تختے تک پہنچانے والی یہی میری ماں ہے کیونکہ میں بچپن میں کسی کے کچھ پیسے چُرا کر لایا تھا تو اس نے مجھے ڈانٹنے کی بجائے میری حوصلہ افزائی کی اوریوں میں جرائم کی دنیا میں آگے بڑھتا چلاگیا اور انجام کار آج مجھے پھانسی دے دی جائے گی ۔(ماخوذ از''اولاد بگڑنے کے اسباب''بیان امیراہلِسنت مدظلہ العالی)

اس کے برعکس ماں کی نیک تربیت کی برکت پر مشتمل حکایت بھی ملاحظہ کیجئے:

    ايک قافلہ گیلان سے بغداد کی طرف رواں دواں تھا۔جب يہ قافلہ ہمدان شہر سے روانہ ہوا تو جيسے ہی جنگل شروع ہوا ڈاکوؤں کا ايک گروہ نمودار ہوا اور قافلے والوں سے مال واسباب لوٹنا شروع کر ديا ۔اس قافلے ميں ايک نوجوان بھی تھا جس کی عمر 18سال کے لگ بھگ تھی ۔ايک راہزن اس نوجوان کے پاس آيا اور کہنے لگا : ''صاحب زادے!تمہارے پاس بھی کچھ ہے ؟۔''نوجوان بولا :''ميرے پاس چالیس دينار ہيں جو کپڑوں ميں سلے ہوئے ہيں ۔''راہزن نے کہا کہ'' صاحب زادے! مذاق نہ کرو سچ سچ بتاؤ؟''نوجوان نے بتايا ''ميرے پاس واقعی چالیس دينار ہيں يہ ديکھو ميری بغل کے نیچے ديناروں والی تھیلی کپڑوں ميں سلی ہوئی ہے''راہزن