Brailvi Books

تربیت اولاد
175 - 185
کھیلنے کا موقع بھی دیجئے
    جامع صغیر میں ہے :
'' عرامۃ الصبی فی صغرہ زیادۃ فی عقلہ فی کبرہ
یعنی بچے کا بچپن میں شوخی اور کھیل کود کرنا ،جوانی میں اس کے عقل مند ہونے کی علامت ہے ۔''(الجامع صغیر،الحدیث۵۴۱۳،ص۳۳۵)

    حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ عید کے دن کچھ حبشی بچے ڈھال اور نیزوں سے کھیل کود کر رہے تھے ۔ نبی کریم رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے انہیں دیکھا تو ارشاد فرمایا:'' اے حبشی بچو! کھیلتے رہوتاکہ یہود ونصاریٰ جان لیں کہ ہمارے دین میں وسعت ہے۔'
'(کنزالعمال،کتاب اللھو واللعب ،الحدیث۴۰۶۱۰،ج۱۵،ص۹۲)
    لیکن خیال رہے کہ ہر کھیل جائز نہیں ہوتا ،اس لئے بچوں کو صرف جائز کھیل کھیلنے کی اجازت دی جائے ،ناجائز کھیل کی طرف تو رخ بھی نہ کرنے دیا جائے ۔
بُری صحبت سے بچائيے
    والدین مشاہدہ کرتے رہیں کہ ان کا بچہ کس قسم کے بچوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے۔ اگر اس کے قریب جمع ہونے والوں میں بری عادات پائی جاتی ہیں یا وہ گمراہ کن عقائد رکھتے ہیں تو شفقت ونرمی کے ساتھ بچے کو ایسے بچوں سے ملنے سے روکیں اور اسے اچھے ساتھی اور خوش عقیدہ ہم نشین مہیا کریں کیونکہ ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے ۔ پیارے آقا ، مکی مدنی سلطان ،رحمت عالمیان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا،''اچھے اور برے مصاحب کی مثال ، مشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے
Flag Counter