| تربیت اولاد |
اولاد پر والدین کی اطاعت واجب ہے ۔ اس لئے اگر وہ والدین کا حکم نہیں مانیں گے توگناہ گار ہوں گے ۔اپنی اولاد کو مبتلائے گناہ ہونے سے بچانے کا ذہن رکھنے والے والدین کو چاہيے کہ جب بھی اپنی اولاد کو کوئی کام کہیں مشورۃً کہیں حکم نہ دیں ۔تنبیہ الغافلین میں ہے کہ ایک بزرگ اپنے بچے کو براہِ راست کوئی کام نہیں کہتے تھے بلکہ جب ضرورت پیش آتی تو کسی اور کے ذریعے کہلواتے ۔ جب ان سے اس کا سبب پوچھا گیا تو فرمانے لگے :''ہوسکتا ہے کہ میں اپنے بیٹے کو کسی کام کا کہوں اور وہ نہ مانے تو (والد کی نافرمانی کے سبب)آگ کا مستحق ہوجائے اور میں اپنے بیٹے کو آگ میں نہیں جلانا چاہتا۔''
(تنبیہ الغافلین، باب حق الوالد علی الولد،ص۶۹)
شیخ ِ طریقت امیرِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی مدظلہ العالی کامدنی ذہن ملاحظہ ہو کہ آپ دامت برکاتھم العالیہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی اولاد کو عموماًجو بھی کام کہتا ہوں مشورۃً کہتا ہوں تاکہ یہ نافرمانی کرکے گنہگار نہ ہوں۔
حوصلہ افزائی کیجئے
حضرت سيدنا امام محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کيميائے سعادت ميں فرماتے ہيں ''جب بچہ اچھا کام کرے اور خوش اخلاق بنے تو اس کی تعريف کريں اور اس کو ايسی چيز ديں جس سے اس کا دل خوش ہو جائے ۔اور اگر ماں بچے کو برا کام کرتے ديکھ لے تو اسے چاہيے کہ تنہائی ميں سمجھائے اور بتائے کہ يہ کام برا ہے ،اچھے اور نيک بچے ايسا نہيں کرتے''
(کيميائے سعادت،رکن سوم ،مھلکات ،اصل اول ریاضت نفس، ص۵۳۲)