Brailvi Books

تربیت اولاد
173 - 185
    لیکن اگر سزا دینی پڑے توہاتھ سے دے ، اتنی ضرب لگائے کہ بچہ اسے برداشت کر سکے اور چہرے پر مارنے سے بچے۔حضرت سیدناابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا:''جب تم میں سے کوئی مارے تو اسے چاہيے کہ چہرے پر مارنے سے بچے ۔''
 (سنن ابی داؤد،کتاب الحدود،باب فی ضرب الوجہ ،الحدیث۴۴۹۳،ج۴،ص۲۲۲)
    ملاحظہ ہو کہ ہمارے بزرگانِ دین علیھم رحمۃ اللہ المتین اپنی اولاد کو ادب سکھانے میں کس قدر مستعد رہاکرتے تھے چنانچہ امام جلیل حضرت سیدنا محمد بن فضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دورانِ تعلیم کبھی بازار سے کھانا نہیں کھایا ۔ان کے والد ہرجمعہ کو اپنے گاؤں سے ان کے لئے کھانا لے آتے تھے ۔ ایک مرتبہ جب وہ کھانا دینے آئے تو ان کے کمرے میں بازار کی روٹی رکھی دیکھ کر سخت ناراض ہوئے اور اپنے بیٹے سے بات تک نہیں کی ۔ صاحبزادے نے معذرت کرتے ہوئے عرض کی :''اباجان ! یہ روٹی بازار سے میں نہیں لایا ،میرا رفیق میری رضامندی کے بغیر خرید کر لایا ہے ۔ '' والد صاحب نے یہ سن کر ڈانٹتے ہوئے فرمایا:''اگر تمہارے اندر تقویٰ ہوتا تو تمہارے دوست کو کبھی بھی یہ جرأت نہ ہوتی۔ (تعلیم المتعلم طریق التعلم،ص۶۷)

وضاحت: امام زرنوجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''اگر ممکن ہو تو غیرمفید اور بازاری کھانے سے پرہیز کرنا چاہيے کیونکہ بازاری کھانا انسان کو خیانت وگندگی کے قریب اور ذکرِ خداوندی عزوجل سے دور کردیتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بازار کے کھانوں پر غرباء اور فقراء کی نظریں بھی پڑتی ہیں اور وہ اپنی غربت وافلاس کی بناء پر جب اس کھانے کو نہیں خرید سکتے تو دل برداشتہ ہو جاتے ہیں اور یوں اس کھانے سے برکت اٹھ جاتی ہے ۔'' (تعلیم المتعلم طریق التعلم،ص۸۸)
Flag Counter