| تربیت اولاد |
مثبت نتائج برآمد ہوں گے ۔بعض مائیں اپنی اولاد کی بار بار کی غلطی پر بددعا دے ڈالتی ہیں پھر جب یہ بددعائیں اپنا اثر دکھاتی ہیں تو یہی مائیں مصلّٰے بچھا کر بیٹھ جاتی ہیں ۔ امام محمدغزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی مکاشفۃ القلوب میں نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے بچے کی شکایت کی ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:''کیاتم نے اس کے خلاف بددعا کی ہے ؟'' اس نے کہا:''ہاں۔'' فرمایا:''تم نے خود ہی اسے برباد کردیا ہے ،بچے کے ساتھ نرمی اختیار کرنا ہی اچھا کام ہے ۔''
(مکاشفۃ القلوب، الباب التاسع والثمانون ،فی بر الوالدین وحقوق الاولاد،ص۲۸۰)
ایک بار کی غلطی پربچے کو مختلف القابات مثلاً مکار ،چور، جھوٹا وغیرہ سے نوازنے والے والدین سخت غلطی پر ہیں۔ان القابات کی تکرار سے بچہ یہ سوچتا ہے جب مجھے یہ لقب مل ہی گیا ہے تو میں کیوں نہ اس کام کو کامل طریقے سے کروں ۔ پھر وہ اسی لقب کا حقیقی مستحق بن کر دکھاتا ہے ۔
اگر نرمی کے باوجود بچہ کسی غلطی کو بار بارکرتا ہے تو مقتضائے حکمت یہ ہے کہ اسے ذرا سختی سے سمجھایا جائے اگر پھر بھی باز نہ آئے تو ہلکی سزا دینے میں کوئی مضایقہ نہیں ہے ۔حضرت سیدنا جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربِّ العلمین، جنابِ صادق و امین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو اپنے گھر میں کوڑا لٹکائے جس سے اس کے اہل ادب سیکھیں۔(کنزالعمال،کتاب النکاح ،تربیۃ اہل بیت ،الاکمال ،الحدیث۴۴۹۹۰،ج۱۶،ص۱۵۹)